ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تین طلاق بل شریعت اسلامی میں مداخلت ، مسلمان کے لیے ناقابل قبول:قاری شعیب احمد

تین طلاق بل شریعت اسلامی میں مداخلت ، مسلمان کے لیے ناقابل قبول:قاری شعیب احمد

Tue, 02 Jan 2018 19:36:55    S.O. News Service

نوادہ،2؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت نے تین طلاق سے متعلق لوک سبھامیں جو بل پاس کیا ہے اس کو مسلمانان بھارت نے سخت انداز میں مسترد کیا ہے مجوزہ بل کو آئین بھارت کے منافی قرار دیا یہ باتیں گذشتہ روزانصارنگرمکہ مسجد نوادہ میں منعقدذکرودعاء کی مجلس میں حضرت قاری شعیب احمد کنوینرتحریک اصلاح معاشرہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ضلع نوادہ نے فرمائی مزید فرمایا بل کا مسودہ تیار کرنے میں حکومت کو جلدبازی سے گریز کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں متعلقہ افراد اور تنظیموں سے مشورہ کرنا چاہیے ۔ اس بل سے مطلقہ مسلم خواتین کو کسی طرح کی کوئی راحت نہیں ملے گی ،بلکہ اس سے مسلم خواتین کو مزید پریشانی اٹھانی پڑسکتی ہے ،مثال کے طور پر اگر تین طلاق دینے والے مردکو جیل کی سزادی گئی تو بچوں کی کفالت کون کرے گا ،یہ بھی قابل غور ہے کہ جب سپریم کورٹ نے تین طلاق کو تسلیم ہی نہیں کیا تو بھر طلاق کیسی اور سزاکیسی مجوزہ بل بھارت کے مسلمانوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے مولانااقبال احمد خطیب مدینہ مسجد نوادہ نے کہایہ بل خود مسلم خواتین کے حقوق کے خلاف ہے اور ان کی الجھنوں ،مشکلات پریشانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔قانون کے ذریعے مسلمانوں کے طلاق دینے کے حق کو چھیننے کی کوشش حکومت کررہی ہے،قاری مقصوداحمدصدرجمعیت علماء نوادہ نے کہا بل اسلامی قانون کے خلاف ہے شریعت کے منافی ہے اور شریعت میں مداخلت ہے اس مداخلت کی کوشش کو قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتاہے ،مسلمانوں کے مذہبی امور میں حکومت کی دخل اندازی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی قاری شوکت مظاہری ناظم جمعیت علماء نوادہ نے جہاں تک تین طلاق کا ایشو ہے تو یہ ایسا ایشونہیں ہے کہ جس سے بہت بڑا طبقہ متاثر ہورہاہے ۔اس سلسلے میں اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو وہ مذہبی رہنما وٗں اور تنظیموں سے صلاح مشورہ کرکے کوئی ایسا راستہ نکالتی جس سے اس کی زد میں آنے والی خواتین کو کسی طرح کی راحت مل سکتی ،قاضی ضیاء الدین مظاہری نائب صدر جمعیت علماء نوادہ نے کہا کہ کیا حکومت مطلقہ عورتوں کیلئے کوئی ایسا فنڈ مختص کررہی ہے جس سے ان کی اور ان کے بچوں کی کفالت ہو سکے لیکن ایسا نہیں ہوا کسی علماء یا تنظیم سے مشورہ نہیں کیا گیامولانانصیرالدین مظاہری جنرل سکریٹری جمعیت علماء نوادہ نے کہا یہ بات تو طے ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں حکومت کی دخل اندازی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی یہ قانون مسلم خواتین کے حقوق پراثراندازہوسکتا ہے یہ شریعت اسلامی اور آئین کے خلاف ہے،اسی لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کے سدباب کی کوشش کررہاہے اور انشاء اللہ یہ کوشش جاری رہے گی ،عام وخواص تمام مسلمانوں سے فی الحال اتنی گذارش ہے کہ رب کریم کے دربار عالی میں دست بدعاء ہوں اور اپنے اسلامی قانون پر اسلامی طریقے کے مطابق عمل پیر اہوں اللہ مسلمانوں کا محافظ ہے امت کے سارے افراد کیلئے ضروری ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں ،اپنے سارے اعمال کو شریعت وسنت کے مطابق انجام دیں آج ہمارہ معاشرہ بے جا رسم ورواج میں گرفتار ہو کر اپنی دنیا وآخرت دونوں کو تباہ وبرباد کرہا ہے ،یقین جانے موجودہ ساری پریشانی ہمارے غیر شرعی اعمال کی وجہ سے پیش آرہے ہیں اس موقع پر قاری انور زکی مولانا معراج امام المنارمسجد نوادہ الحاج ذولفقار الحاج نقیب مولانا ابولکلام مولانا ابولعاص مولانا منت اللہ وغیرہم نے خطاب کیابطورخاص امت کے کثیر افراد نے شرکت کی قاری شعیب احمد نے رقت آمیز دعا کرائی۔ 


Share: